امریکا۔ایران مفاہمت میں پاکستان کا کردار، معیشت اور سفارت کاری کے لیے کون سے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں؟

0
17
امریکا۔ایران مفاہمت میں پاکستان کا کردار، معیشت اور سفارت کاری کے لیے کون سے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں؟

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کی بحالی میں پاکستان کے کردار کو سفارتی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کسی جامع معاہدے تک پہنچتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان کی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو تنازعات کے حل، علاقائی استحکام اور مذاکراتی عمل کی حمایت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے مختلف فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا۔

پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ

بین الاقوامی سطح پر کسی بھی اہم مذاکراتی عمل کی میزبانی کسی ملک کے لیے سفارتی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کامیاب رہتے ہیں تو پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث اور مذاکراتی پلیٹ فارم کے طور پر مزید پذیرائی مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوگی اور مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاک ایران تجارت کے نئے امکانات

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ دونوں ممالک طویل عرصے سے تجارت کے فروغ کے خواہاں رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

اس وقت دونوں ممالک کے درمیان خوراک، زرعی مصنوعات، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت ہوتی ہے، تاہم مستقبل میں توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں ممکنہ فوائد

پاکستان کو توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا سامنا ہے جبکہ ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سیاسی اور قانونی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں تو توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

توانائی کی سستی فراہمی سے ملکی صنعت، بجلی کی پیداوار اور پیداواری لاگت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔

سرحدی تجارت اور روزگار

دونوں ممالک کے درمیان قائم سرحدی منڈیاں مقامی آبادی کے لیے معاشی سرگرمیوں کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ تجارت میں اضافے سے سرحدی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی بھی ممکن ہے۔

ریلوے اور علاقائی رابطوں کا فروغ

پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان ریلوے روابط کو خطے کی معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر موجودہ منصوبے مزید فعال ہوتے ہیں تو پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ اور وسطی ایشیا تک زمینی رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تجارتی ماہرین کے مطابق ریل اور زمینی راہداریوں کی ترقی سے سامان کی ترسیل کے اخراجات کم اور تجارت کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔

امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری

حالیہ برسوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو جاری رہی ہے۔ انسداد دہشت گردی، معدنی وسائل، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری ایسے شعبے ہیں جن میں مستقبل میں مزید پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان خطے میں استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتا رہا تو اسے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کے مزید مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے ممکنہ ثمرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط کے فروغ سے پاکستان کو مستقبل میں اہم سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

Leave a reply