امریکا اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی، امن عمل کے مستقبل پر سوالات برقرار

0
5
امریکا اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی، امن عمل کے مستقبل پر سوالات برقرار

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ سوئس حکام کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں کی متوقع ملاقات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہو سکے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات حالیہ مفاہمتی اقدامات کے بعد منعقد ہونا تھے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے حل اور مستقبل کے ممکنہ معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ ملاقات میں جنگ کے خاتمے سے متعلق نکات اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔

امریکی حکام نے مذاکرات کے ملتوی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور مستقبل قریب میں تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی سلسلے میں امریکی وفد کے بعض ارکان کی سوئٹزرلینڈ روانگی بھی روک دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی مزید پیش رفت سے قبل عملی اقدامات اور اعتماد سازی کے واضح اشارے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل اور مؤثر معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کو باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ہوگا۔

علاقائی صورتحال بھی مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور مختلف محاذوں پر ہونے والی فوجی سرگرمیوں کے باعث سفارتی کوششوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے صرف امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ دیگر متعلقہ فریقوں کا کردار بھی اہم ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اچانک ملتوی ہونا امن عمل کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات پیدا کرتا ہے، تاہم سفارتی ذرائع اب بھی امید ظاہر کر رہے ہیں کہ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی پائیدار حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں۔

ادھر عالمی توانائی منڈیوں اور مالیاتی حلقوں کی نظریں بھی اس پیش رفت پر مرکوز ہیں، کیونکہ خطے میں استحکام یا عدم استحکام کے اثرات بین الاقوامی تجارت اور تیل کی رسد پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply