مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے بعد توانائی مارکیٹ میں امید کی لہر

بین الاقوامی سمندری ذرائع اور مختلف رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے بعد آبنائے ہرمز اور قریبی بحری راستوں پر تجارتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی تیل سے لدی متعدد ٹینکرز سمندری راستوں سے روانہ ہو چکے ہیں اور کچھ جہاز حساس بحری حدود سے گزرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ سمندری ڈیٹا سے متعلق اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی بڑے ٹینکرز خام تیل لے کر مختلف بندرگاہوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے بعض بیانات کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کی پیش رفت کے بعد بحری راستوں پر پابندیوں میں نرمی کے آثار پیدا ہوئے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ اور مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔
سمندری نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن شپنگ انڈسٹری کے بڑے حصے میں اب بھی غیر یقینی کی کیفیت موجود ہے۔ انشورنس اور فریٹ کمپنیوں کے مطابق جب تک صورتحال واضح اور مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوتی، تجارتی سرگرمیوں میں محتاط رویہ برقرار رہے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ امن معاہدے اور پابندیوں میں نرمی سے عالمی تیل کی ترسیل پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے، تاہم فی الحال صورتحال کو مکمل طور پر مستحکم یا مستقل تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی اور دیگر ذرائع ابلاغ میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں کسی ممکنہ معاہدے کے تحت توانائی تجارت اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ابتدائی دنوں میں بڑی تعداد میں ٹینکرز کی نقل و حرکت دیکھنے میں آ سکتی ہے، تاہم یہ رجحان وقتی بھی ہو سکتا ہے جب تک مکمل اعتماد بحال نہ ہو جائے۔









