
عالمی توانائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا اور قیمتیں نیچے آ گئیں۔
مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً پانچ فیصد کمی کے بعد 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ اسی طرح برینٹ کروڈ کی قیمت میں بھی تقریباً چار فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 83 ڈالر فی بیرل کی سطح تک آ گئی۔
متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت بھی مندی کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی اور اس میں تقریباً پانچ فیصد کمی کے بعد قیمت 83 ڈالر فی بیرل کے قریب ریکارڈ کی گئی۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی امید نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان امن عمل آگے بڑھتا ہے تو توانائی کی عالمی رسد میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال اور توانائی کی سپلائی چین پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔








