
گرمی کے موسم میں بہت سے لوگ نہانے کے بعد فوراً ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں چلے جاتے ہیں تاکہ ٹھنڈک محسوس کر سکیں، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت بعض افراد کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی میں جسم کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص نہانے کے دوران، خاص طور پر ٹھنڈے پانی کے استعمال سے، جسم کو اچانک ٹھنڈا کر لیتا ہے اور پھر فوراً اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں چلا جاتا ہے تو جسم کو درجہ حرارت میں تیز تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین اس کیفیت کو “تھرمل شاک” یا درجہ حرارت کا جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں خون کی شریانیں تیزی سے سکڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض افراد کو چکر، سر درد، کمزوری یا بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد فوراً خشک اور ٹھنڈے ماحول میں جانے سے جسم کا قدرتی نظام وقتی طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے باعث کچھ لوگوں میں نزلہ، زکام، گلے کی خراش یا سانس کی ہلکی مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی حساس طبیعت رکھتے ہوں۔
اس کے علاوہ اے سی کی خشک ہوا آنکھوں میں خشکی، جلن اور سرخی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ جلدی امراض میں مبتلا افراد کے لیے بھی یہ صورتحال تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ مسلسل اے سی والے ماحول میں رہنے سے جسم میں پانی کی کمی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ ایئر کنڈیشنر ہوا کی نمی کم کر دیتا ہے۔ اسی لیے گرمیوں میں مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔
صحت کے ماہرین چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں:
– نہانے کے فوراً بعد اے سی والے کمرے میں جانے کے بجائے چند منٹ عام درجہ حرارت میں گزاریں۔
– جسم اور بالوں کو اچھی طرح خشک کر لیں۔
– نہانے کے لیے بہت زیادہ ٹھنڈے پانی کے بجائے معتدل درجہ حرارت کا پانی استعمال کریں۔
– اے سی کا درجہ حرارت بہت کم رکھنے کے بجائے 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھیں۔
– جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے لیے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔
ماہرین کے مطابق معمولی احتیاط اپنانے سے گرمیوں میں نہانے کے بعد صحت سے متعلق متعدد مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔








