کیمبرج یونیورسٹی کی اے آئی سے تیار کردہ نئی ویکسین — ایک ممکنہ انقلابی پیش رفت

0
11
کیمبرج یونیورسٹی کی اے آئی سے تیار کردہ نئی ویکسین — ایک ممکنہ انقلابی پیش رفت

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک نئی قسم کی ویکسین تیار کی ہے جو مستقبل میں ممکنہ وباؤں کے خلاف وسیع تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

محققین کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ ویکسین کا ایک اہم جزو، یعنی اینٹیجن، مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا اور ابتدائی انسانی تجربات میں اسے محفوظ پایا گیا ہے۔

یہ ویکسین خاص طور پر کورونا وائرس کے مختلف اقسام اور اس سے ملتے جلتے دوسرے وائرسز کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ صرف ایک مخصوص وائرس کے بجائے پورے وائرس گروپ کے خلاف جسم میں مزاحمت پیدا کی جا سکے۔

سائنسدانوں کے مطابق روایتی ویکسینز عام طور پر کسی ایک مخصوص وائرس کو نشانہ بناتی ہیں، لیکن وائرس وقت کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتے ہیں، جس کی وجہ سے نئی ویکسینز کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کا مقصد اس مسئلے سے آگے بڑھتے ہوئے پہلے سے زیادہ وسیع تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس تحقیق میں مختلف کورونا وائرسز کے جینیاتی ڈیٹا کو اے آئی سسٹم میں شامل کیا گیا، جس نے ان معلومات کا تجزیہ کر کے ایک ایسا مشترکہ اینٹیجن تیار کیا جو مدافعتی نظام کو زیادہ وسیع ردعمل کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں تقریباً 39 افراد پر اس ویکسین کی حفاظت اور اثرات کا جائزہ لیا گیا، جس میں اسے مجموعی طور پر محفوظ پایا گیا تاہم مدافعتی ردعمل محدود رہا۔ اس کے باوجود ماہرین اسے ایک اہم ابتدائی قدم قرار دے رہے ہیں۔

اب اس ویکسین کا دوسرا مرحلہ تقریباً 200 رضاکاروں پر جاری ہے تاکہ اس کی مؤثریت اور حفاظتی صلاحیت کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں پر کیے گئے تجربات حوصلہ افزا رہے ہیں، لیکن اصل فیصلہ کن مرحلہ انسانی آزمائشیں ہوں گی۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں نہ صرف کورونا بلکہ فلو اور دیگر خطرناک وائرسز کے خلاف بھی زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر ویکسینز تیار کی جا سکیں گی، جس سے عالمی سطح پر وباؤں کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply