آزاد کشمیر کی 12 مہاجر نشستیں انتخابی سیاست کا مرکز بن گئیں

0
7
آزاد کشمیر کی 12 مہاجر نشستیں انتخابی سیاست کا مرکز بن گئیں

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں سیاسی اور آئینی بحث کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔ یہ نشستیں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں اور ان کا کردار حکومت سازی میں فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، جبکہ باقی نشستوں میں خواتین، ٹیکنوکریٹس، اوورسیز کشمیریوں اور مہاجرین کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر ووٹنگ پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم رجسٹرڈ کشمیری مہاجرین کرتے ہیں۔

ان نشستوں کی بنیاد تقسیمِ ہند اور بعد ازاں ہونے والی جنگوں کے دوران ہجرت کرنے والے کشمیری خاندانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے رکھی گئی تھی۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی پورے جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندہ سمجھی جائے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان نشستوں کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جانے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مہاجر حلقے جغرافیائی طور پر پاکستان کے مختلف شہروں اور اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انتخابی مہم اور انتخابی عمل کی نگرانی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان نشستوں کے نتائج اکثر آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ نشستیں اسمبلی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتی ہیں، اس لیے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے لیے ان پر کامیابی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس معاملے پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض رہنما ان نشستوں کو تاریخی حق اور مہاجرین کی نمائندگی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر حلقے انہیں اصلاحات کے ذریعے محدود یا ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ برس آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے بھی ان نشستوں کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے تھے، جس کے بعد اس معاملے پر عوامی سطح پر بحث مزید تیز ہوگئی۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت بعض تنظیمیں ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت اور متعدد سیاسی جماعتیں ان کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کی حامی ہیں۔

حالیہ دنوں میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تاہم کوئی اتفاقِ رائے سامنے نہیں آسکا۔ بعد ازاں آزاد کشمیر اسمبلی نے مہاجر نشستوں کے حق میں قرارداد منظور کی، جبکہ معاملے کی قانونی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر سے بھی رجوع کر لیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ مہاجرین نے تاریخی قربانیاں دی ہیں اور انہیں نمائندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حتمی فیصلہ جمہوری طریقے سے عوام کی رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اب سیاسی جماعتوں، ووٹرز اور مبصرین کی نظریں سپریم کورٹ کی رائے اور 27 جولائی کے انتخابات پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ مہاجر نشستیں آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی سمت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔

Leave a reply