امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے

0
9
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں، جبکہ ہر فریق نے اپنے مؤقف کی حمایت میں الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایرانی فورسز نے امریکی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون کارروائیاں کیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، بشمول ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور ایک ایئربیس، ان حملوں کا ہدف بنے۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مبینہ امریکی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکا نے جزیرہ قشم میں ایک کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو مؤثر دفاعی اقدامات کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے بعض میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ ہو گئے، جبکہ دیگر کو امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں جزیرہ قشم پر واقع ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

مزید برآں، امریکی حکام نے ایک آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی علاقے کی جانب رواں تھا۔

Leave a reply