ایران-امریکا مذاکرات کی معطلی کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا، سپلائی خدشات میں اضافہ

0
13
ایران-امریکا مذاکرات کی معطلی کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا، سپلائی خدشات میں اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں تعطل اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں تیزی اس وقت سامنے آئی جب ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو روک دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑا۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 6 فیصد اضافے کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 7 فیصد سے زائد بڑھ کر 94 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے نہ صرف مذاکراتی عمل معطل کیا ہے بلکہ ثالثوں کے ذریعے ہونے والے غیر رسمی رابطوں کو بھی روک دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق تنازعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

علاقائی صورتحال کے تناظر میں آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیش رفت سے متعلق امیدوں میں کمی نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اسی باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس سے قیمتیں اوپر گئیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم حالیہ جغرافیائی اور سیاسی حالات نے مارکیٹ کا رخ دوبارہ تبدیل کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی پالیسیوں اور عالمی سپلائی کے خدشات کے باعث آئندہ دنوں میں توانائی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتی ہے۔

Leave a reply