
حالیہ دنوں میں ایڑی کے درد کی شکایت ہر عمر کے افراد میں تیزی سے بڑھتی جارہی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو زیادہ دیر کھڑے رہتے ہیں، سخت فرش پر چلتے ہیں یا غیر آرام دہ جوتے استعمال کرتے ہیں۔ متاثرہ افراد عموماً صبح بستر سے اٹھتے ہی پہلا قدم رکھتے وقت ایڑی میں تیز درد یا چبھن محسوس کرتے ہیں، جو کچھ دیر چلنے کے بعد کم تو ہو جاتا ہے مگر طویل کھڑے رہنے یا مسلسل سرگرمی کے دوران دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت کی ایک عام وجہ پلانٹر فیشیائٹس ہو سکتی ہے، جس میں پاؤں کے تلوے میں موجود مخصوص ٹشو پر دباؤ بڑھنے سے سوزش اور کھنچاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا، غلط جوتے، مسلسل چلنا پھرنا اور سخت سطح پر زیادہ وقت گزارنا بھی اس مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اس تکلیف کو نظر انداز کیا جائے تو یہ مسئلہ طویل مدت میں چلنے پھرنے میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ زیادہ وزن رکھنے والے افراد اور فلیٹ فٹ (پاؤں کا سیدھا پن) رکھنے والوں میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر درد کئی ہفتوں تک برقرار رہے، سوجن میں اضافہ ہو یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
گھریلو سطح پر ممکنہ آرام کے طریقے
طبی مشوروں کے مطابق کچھ آسان احتیاطی تدابیر سے اس درد میں کمی لائی جا سکتی ہے:
دن میں دو سے تین بار آئس سے ایڑی کی ٹکور کرنے سے سوجن اور درد کم ہو سکتا ہے
نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر پاؤں بھگونے سے پٹھوں کو آرام ملتا ہے
ہلکی مالش، خصوصاً گرم تیل کے ساتھ، خون کی گردش بہتر کرتی ہے
صبح کے وقت ہلکی اسٹریچنگ یا ورزش پاؤں کی سختی کم کرنے میں مددگار ہے
سخت فرش پر ننگے پاؤں چلنے سے پرہیز کرنا چاہیے
نرم اور آرام دہ جوتوں کے ساتھ ہیل پیڈ یا کشن استعمال کرنا فائدہ مند ہے
سوتے وقت پاؤں کو ہلکا سا اونچا رکھنے سے رات کی سوجن میں کمی آ سکتی ہے
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ وزن کو متوازن رکھنا اور روزمرہ معمولات میں احتیاط برتنا اس مسئلے سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر علامات برقرار رہیں یا شدت اختیار کریں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
یہ مسئلہ اگر ابتدائی مرحلے میں سنبھال لیا جائے تو گھریلو تدابیر اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔









