
بنگلہ دیش کے دورے پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مشکلات کا سلسلہ جاری رہا اور میزبان ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو صفر سے سیریز میں کلین سوئپ مکمل کر لیا۔
سلہٹ میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میں پاکستان کو جیت کے لیے 437 رنز کا بڑا ہدف ملا تھا، لیکن پوری ٹیم چوتھے روز اپنی دوسری اننگز میں 358 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ آخری دن کھیل شروع ہوا تو پاکستان کو فتح کے لیے مزید 121 رنز درکار تھے اور چند وکٹیں باقی تھیں، تاہم ٹیم ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
محمد رضوان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 94 رنز کی اہم اننگز کھیلی اور ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن وہ سنچری مکمل نہ کر سکے۔ ان کے ساتھ ساجد خان نے بھی مزاحمت دکھاتے ہوئے 28 رنز بنائے، مگر دیگر بلے باز دباؤ میں زیادہ دیر ٹک نہ سکے اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔
بنگلہ دیش کی جانب سے اسپنر تائیجل اسلام نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور چھ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا۔ ان کی مؤثر گیند بازی نے میچ کا رخ مکمل طور پر میزبان ٹیم کی طرف موڑ دیا۔
پاکستانی بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں پوری سیریز کے دوران غیر مؤثر نظر آئے، جبکہ بنگلہ دیش نے ہر شعبے میں بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے واضح برتری ثابت کی۔
میچ کے اختتام پر بنگلہ دیشی ٹیم نے تاریخی سیریز جیت کا جشن منایا۔ اس میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ڈاس جبکہ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز مشفق کو ملا۔ کپتان نجم الحسین نے فاتح ٹرافی اپنے نام کی۔
یہ شکست پاکستانی ٹیم کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوئی، اور موجودہ کپتان کی قیادت میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر سوالات مزید بڑھ گئے۔









