
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں ایک وفاقی جیوری نے ایلون مسک کی جانب سے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے میں تین اہم دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا، جس میں مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی غیر منافع بخش اور فلاحی مقصد سے ہٹ کر تجارتی اور منافع بخش ماڈل اختیار کر لیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی موجودہ قیادت نے اس تبدیلی سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا۔
جیوری نے جن دعوؤں کو خارج کیا ان میں تنظیم کے فلاحی مقصد سے انحراف، مبینہ طور پر غیر قانونی مالی فائدہ، اور مائیکروسافٹ کی جانب سے اوپن اے آئی کی معاونت سے متعلق الزامات شامل تھے۔ ان تمام دعوؤں سے جڑے مائیکروسافٹ کے خلاف الزامات بھی مسترد کر دیے گئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی فریق کی مکمل فتح یا شکست نہیں، بلکہ مقدمہ تکنیکی بنیاد پر خارج کیا گیا ہے کیونکہ بعض دعوے قانونی طور پر مقررہ وقت کے بعد دائر کیے گئے تھے، جسے امریکی قانون میں “اسٹیچوٹ آف لمیٹیشنز” کہا جاتا ہے۔
ایلون مسک نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اصل الزامات پر فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف قانونی وقت کی حد کو بنیاد بنایا ہے۔ انہوں نے مؤقف دہرایا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ ایک منافع بخش ادارے میں تبدیل ہو گیا۔
مسک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
مقدمے میں مسک کی جانب سے تقریباً 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی اوپن اے آئی کی تنظیم نو روکنے اور قیادت میں تبدیلی کی درخواست بھی شامل تھی۔
دوسری جانب عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ کیس مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور بعض دیگر دعوے اب بھی زیر سماعت ہیں، جن پر آئندہ مہینوں میں کارروائی جاری رہے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان یہ تنازع آئندہ بھی طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔









