گلوبل صمود فلوٹیلا سے متعلق تازہ صورتحال: امدادی مشن کو رکاوٹوں کا سامنا، رابطے منقطع ہونے کی اطلاعات

0
7
گلوبل صمود فلوٹیلا سے متعلق تازہ صورتحال: امدادی مشن کو رکاوٹوں کا سامنا، رابطے منقطع ہونے کی اطلاعات

غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں مشن کو بحیرہ روم میں روکنے اور کشیدہ صورتحال پیدا ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن سے وابستہ Edhi Foundation کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے Saad Edhi نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامی پیغام میں کہا کہ فلوٹیلا کو راستے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔ بعض ویڈیو پیغامات میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ان کی آخری اپڈیٹ بھی ہو سکتی ہے۔
ترجمان کے مطابق سعد ایدھی سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس کے بعد صورتحال مزید تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے حتمی اور آزاد تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشن کے دوران اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو روکا اور 100 سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لیا، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید اطلاعات کے مطابق بعض کشتیوں پر فائرنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، مگر ان واقعات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
مشن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ فلوٹیلا مکمل طور پر غیر مسلح اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی گئی تھی، جس کا مقصد غزہ کے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچانا تھا۔
یہ امدادی قافلہ 14 مئی 2026 کو ترکیہ کے شہر مارماریس سے روانہ ہوا تھا اور اس میں دنیا بھر سے 500 سے زائد رضاکار شامل تھے، جن میں سعد ایدھی سمیت مختلف سماجی کارکن بھی موجود تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی ایک فلوٹیلا کو روکے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ماحولیاتی کارکن Greta Thunberg اور دیگر سماجی شخصیات کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم وہ مشن بھی غزہ تک امداد پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
فی الحال صورتحال سے متعلق مختلف اور غیر مصدقہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Leave a reply