
کراچی میں منشیات کیس کی ملزمہ انمول عرف پنکی کی عدالتی پیشیوں کے حوالے سے نیا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ سماعت سٹی کورٹ کے بجائے سینٹرل جیل میں قائم عدالت میں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تین مختلف مقدمات میں سٹی کورٹ میں پیش کیا جانا تھا، تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ کی درخواست پر عدالت نے جیل ٹرائل کی اجازت دے دی۔ اس فیصلے کے بعد اب تمام کارروائی جیل کے اندر خصوصی عدالت میں کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو سخت سیکیورٹی میں بغدادی تھانے کی پولیس کے ذریعے سینٹرل جیل منتقل کیا جائے گا، جہاں عدالتی کارروائی کے دوران اضافی حفاظتی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب ملزمہ نے پولیس پر الزامات عائد کیے اور اپنے خلاف مقدمات کو جھوٹا قرار دیا تھا۔ اس موقع پر عدالت میں شور شرابا بھی ہوا تھا جبکہ پولیس اور میڈیا کی موجودگی میں صورتحال غیر معمولی رہی۔
ملزمہ نے اپنے مؤقف میں دعویٰ کیا تھا کہ اسے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اس سے بعض افراد کے نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمہ مبینہ طور پر ایک منظم نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور طویل عرصے سے سرگرم رہی ہے۔ پولیس کے مطابق تمام الزامات کی تفتیش جاری ہے اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیل کورٹ میں سماعت کا مقصد سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ ہے۔








