چین کا امریکا کو تائیوان پر انتباہ، ایران جنگ پر سخت مؤقف

0
9
چین کا امریکا کو تائیوان پر انتباہ، ایران جنگ پر سخت مؤقف

چین اور امریکا کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اگرچہ مثبت پیش رفت کے دعوے کیے گئے، تاہم ایران اور تائیوان کے معاملات پر دونوں ممالک کے اختلافات برقرار رہے۔ چینی صدر Xi Jinping اور امریکی صدر Donald Trump نے ملاقات کو کامیاب قرار دیا، لیکن عالمی تنازعات پر واضح پالیسی فرق سامنے آیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے جمعہ کو چین کا دورہ مکمل کیا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں پر بات چیت ہوئی۔ تاہم ان معاہدوں کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیرمعمولی اہمیت نہیں دی گئی۔
دوسری جانب بیجنگ نے واشنگٹن کو تائیوان کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ ایران کے حوالے سے چین نے مؤقف اپنایا کہ جنگ کا آغاز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
دورے کے دوسرے روز امریکی صدر نے چینی قیادت کے ہمراہ ژونگ نانہائی کے تاریخی باغ کا دورہ کیا۔ اسی مقام پر دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری ملاقات ہوئی، جہاں امریکی صدر نے اس دورے کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا۔
ملاقات سے قبل چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں امریکا اور اسرائیل کی ایران سے متعلق پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق چین خطے میں امن کوششوں کی حمایت کرتا ہے کیونکہ جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
بعد ازاں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے خیالات کافی حد تک ایک جیسے ہیں، تاہم چینی صدر نے اس حوالے سے کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے چین پر یہ دباؤ موجود ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کسی ممکنہ معاہدے میں کردار ادا کرے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران پر سخت دباؤ ڈالنے سے گریز کرے گا۔
ماہرین کے مطابق چین ایران کو خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، اسی لیے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Leave a reply