نیٹ فلکس پر صارفین کا ڈیٹا استعمال کرنے کے الزامات، ٹیکساس میں قانونی کارروائی شروع

0
24
نیٹ فلکس پر صارفین کا ڈیٹا استعمال کرنے کے الزامات، ٹیکساس میں قانونی کارروائی شروع

امریکا کی ریاست ٹیکساس میں معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم Netflix کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں کمپنی پر صارفین کی سرگرمیوں کی نگرانی اور ڈیٹا کے غیر مناسب استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ریاستی حکام کے مطابق کمپنی ایسی تکنیکیں استعمال کرتی ہے جن کا مقصد صارفین کو زیادہ دیر تک اسکرین کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ ان طریقوں کو ٹیکنالوجی کی زبان میں “ڈارک پیٹرنز” کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وہ ڈیزائن یا فیچرز ہوتے ہیں جو صارف کے رویے پر اثر انداز ہو کر اسے بار بار ایپ استعمال کرنے پر مائل کرتے ہیں۔
شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارم صارفین کی دیکھنے کی عادات، پسندیدہ مواد، ویڈیو روکنے یا دوبارہ چلانے کے انداز سمیت مختلف معلومات جمع کرتا ہے تاکہ ہر فرد کے لیے الگ نوعیت کی سفارشات تیار کی جا سکیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے کمپنی صارفین، خصوصاً بچوں اور خاندانوں، کو مسلسل مواد دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے جبکہ ان کے ڈیٹا سے تجارتی فائدہ بھی حاصل کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب نیٹ فلکس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کی پرائیویسی کو اہمیت دیتی ہے اور تمام متعلقہ قوانین کے مطابق خدمات فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کئی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کی توجہ زیادہ دیر تک حاصل رکھنے کے لیے نفسیاتی اور تکنیکی حکمت عملیاں استعمال کرتے ہیں، جس پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔
اب عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا نیٹ فلکس کی سرگرمیاں صارفین کی پرائیویسی قوانین سے متصادم ہیں یا یہ صرف سروس کو بہتر بنانے کے لیے معمول کا ڈیٹا تجزیہ ہے۔

Leave a reply