
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر ہونے والی کارروائی کے دوران بین الاقوامی نوعیت کے مبینہ مالیاتی فراڈ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس کے روابط امریکا میں جاری ایک بڑے فراڈ کیس سے بھی ملتے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گلشنِ اقبال بلاک 4 میں قائم ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 40 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ادارہ صرف ایک کال سینٹر نہیں تھا بلکہ یہاں سے بیرون ملک شہریوں کو نشانہ بنا کر مبینہ طور پر مالی فراڈ کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار ایک شخص مرتضیٰ حسین عرف ہانی بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے چند ساتھیوں سمیت کال سینٹر کے بعض مالکان کو بھی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد نے بیرونِ ملک شہریوں سے دھوکہ دہی کا اعتراف کیا ہے۔
تحقیقات میں سامنے آنے والی ڈیجیٹل شواہد، چیٹس اور گروپ گفتگو سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ ملزمان منظم انداز میں “فراڈ پچنگ” کے طریقے استعمال کرتے تھے اور انہیں اس بات کا خدشہ بھی تھا کہ ان کی سرگرمیاں مالیاتی اکاؤنٹس کے بند ہونے کا باعث بن سکتی ہیں۔
امریکی ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کے مطابق اس گروہ پر الزام ہے کہ یہ خود کو بینک یا سرکاری اداروں کے اہلکار ظاہر کر کے امریکی شہریوں، خصوصاً بزرگ افراد اور سابق فوجیوں کو نشانہ بناتے تھے۔ متاثرین کو قرض کم کرنے یا مالی ریلیف دینے کا جھانسہ دے کر ان سے رقم وصول کی جاتی تھی۔
مزید یہ کہ مبینہ طور پر جعلی اسکرپٹس اور کمپیوٹرائزڈ سسٹمز کے ذریعے متاثرین کی ذاتی اور مالی معلومات حاصل کی جاتی تھیں، جنہیں بعد میں فراڈ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
امریکی عدالت کی جانب سے اس نیٹ ورک سے منسلک اثاثے منجمد کر کے نگرانی میں دے دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کراچی میں درج مقدمے کے تحت سائبر کرائم حکام چوری شدہ ڈیٹا کے استعمال اور غیر ملکی شہریوں سے فراڈ کے الزامات کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
چھاپے کے دوران حاصل کیے گئے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ کرداروں کی تلاش اور بین الاقوامی روابط کی چھان بین جاری ہے۔








