
خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی بحری تجارت کے روایتی راستوں میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لاجسٹکس ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کا نقشہ بھی بدلنا شروع ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق متعدد بڑی شپنگ کمپنیاں اب روایتی سمندری راستوں کے بجائے زمینی اور ملے جلے (ملٹی موڈل) نظام کی طرف جا رہی ہیں۔ خلیجی خطے تک سامان کی ترسیل کے لیے ٹرک اور زمینی ہائی ویز کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کچھ بندرگاہیں نئے تجارتی مراکز کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔
بحیرہ احمر کے قریب واقع کچھ بندرگاہیں اب علاقائی ٹرانزٹ پوائنٹس کی حیثیت اختیار کر رہی ہیں، جہاں سے سامان کو آگے مختلف خلیجی ممالک تک زمینی راستوں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر ترسیل براہِ راست سمندری راستوں سے ہوتی تھی، تاہم حالیہ تبدیلی نے پورے نظام کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں ترسیلی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بعض بندرگاہوں پر رش اور تاخیر کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ انفراسٹرکچر اچانک بڑھنے والے کارگو دباؤ کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی وجہ سے شپنگ شیڈولز متاثر ہوئے ہیں اور جہازوں کے انتظار کے اوقات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والے بحری جہازوں نے بھی اپنا روٹ تبدیل کر لیا ہے۔ اب کئی جہاز بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گزرنے کے بجائے افریقہ کے جنوبی حصے سے ہوتے ہوئے طویل راستہ اختیار کر رہے ہیں، جس میں کیپ آف گڈ ہوپ کا روٹ اہم بن گیا ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے سفر کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔
سپلائی چین کے ماہرین کے مطابق اس نئے روٹ کی وجہ سے ترسیل کے وقت میں اوسطاً کئی دنوں سے لے کر دو ہفتے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کے استعمال اور آپریشنل اخراجات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی فریٹ لاگت بڑھ گئی ہے۔
عالمی سطح پر اس صورتحال کے مثبت اور منفی دونوں اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ افریقی بندرگاہوں کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مصر کو نہر سوئز سے آمدنی میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ بحری ٹریفک کا ایک بڑا حصہ متبادل راستوں کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو عالمی تجارت کے مستقل راستوں اور لاجسٹکس نیٹ ورک میں طویل المدتی تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں، جو عالمی معیشت پر دور رس اثرات ڈالیں گی۔









