امریکا اور چین کے تعلقات میں تائیوان پھر مرکزی تنازع بن گیا

0
6
امریکا اور چین کے تعلقات میں تائیوان پھر مرکزی تنازع بن گیا

امریکا: ایران جنگ بندی، پاکستان کے کردار کا ذکر اور چین کے ساتھ تعلقات پر ٹرمپ کے بیانات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی ان کی براہِ راست ترجیح نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ بعض دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا۔ ان کے مطابق ان ممالک میں پاکستان نے بھی کردار ادا کیا اور جنگ بندی کی حمایت کی درخواست کی۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ذاتی طور پر جنگ بندی کی ضرورت زیادہ محسوس نہیں ہوتی تھی، تاہم دیگر ممالک کے مؤقف کے باعث امریکا نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کافی حد تک کمزور کیا ہے، اور مستقبل میں حالات کے مطابق محدود نوعیت کی مزید کارروائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

چین کے دورے کے بعد گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا اور چین کے درمیان اقتصادی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت چین کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کی امریکی سویابین اور 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا امکان ہے۔

تائیوان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس حساس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی، تاہم انہوں نے واضح موقف دینے سے گریز کیا کہ امریکا کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں کیا قدم اٹھائے گا۔

ان کے مطابق چینی صدر نے ملاقات میں تائیوان کے بارے میں امریکا کے مؤقف پر سوال اٹھایا، لیکن انہوں نے اس پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب چین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان شدید تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ امریکا تائیوان کو محدود دفاعی تعاون اور ہتھیاروں کی فراہمی فراہم کرتا ہے، جس پر بیجنگ مسلسل اعتراض کرتا آیا ہے۔

Leave a reply