فائبر آپٹک ڈرونز: جدید ٹیکنالوجی کے خلاف غیر روایتی ہتھیار

0
30
فائبر آپٹک ڈرونز: جدید ٹیکنالوجی کے خلاف غیر روایتی ہتھیار

لبنان کے جنوبی علاقے طیبہ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایک منفرد اور توجہ حاصل کرنے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے جدید جنگی ٹیکنالوجی کی حدود پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک کارروائی کے دوران ایک امدادی ہیلی کاپٹر زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لیے علاقے میں پہنچا، اسی دوران ایک ڈرون اس کے قریب آ گیا۔ دستیاب دفاعی نظام اس خطرے کو فوری طور پر روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے، جس پر موجود اہلکاروں نے ہنگامی طور پر فائرنگ کر کے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ڈرون قریب پہنچ کر پھٹ گیا، تاہم مزید نقصانات کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں فائبر آپٹک سے منسلک ڈرونز کا استعمال بڑھا ہے۔ یہ ڈرون روایتی وائرلیس کنٹرول کے بجائے ایک باریک کیبل کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں جام کرنا یا الیکٹرانک طریقوں سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایسے ڈرونز کی ساخت اور کم وزن انہیں بعض حالات میں ریڈار سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ان میں نصب کیمرے آپریٹر کو ہدف تک درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
میدانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر حل تاحال محدود ہیں، جس کے باعث روایتی حفاظتی اقدامات بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، دفاعی تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے ڈرونز ہر ماحول میں یکساں مؤثر نہیں ہوتے۔ موسمی حالات، زمینی رکاوٹیں اور کیبل کے مسائل ان کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں غیر روایتی اور نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Leave a reply