پرانی عمارتوں میں خوف اور بے چینی کی سائنسی وجہ سامنے آگئی

سائنسی ماہرین نے حال ہی میں ایک تحقیق کے ذریعے اس عام تاثر کی ممکنہ سائنسی وضاحت پیش کی ہے کہ پرانی یا متروک عمارتیں اکثر “آسیب زدہ” محسوس کیوں ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس کیفیت کی وجہ کسی مافوق الفطرت عنصر کے بجائے ایک ایسی آواز ہو سکتی ہے جسے انسانی کان سن نہیں سکتے۔ اس آواز کو انفرا ساؤنڈ کہا جاتا ہے، جس کی فریکوئنسی 20 ہرٹز سے کم ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انتہائی کم فریکوئنسی والی آوازیں پرانی عمارتوں میں خراب پائپوں، وینٹیلیشن سسٹمز یا دیگر مشینری سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ انسان انہیں براہ راست سن نہیں سکتا، لیکن یہ جسم پر اثر انداز ہو کر بے چینی، چڑچڑاپن اور خوف جیسے احساسات پیدا کر سکتی ہیں۔
ایک سائنسی تجربے میں 36 افراد کو مختلف آوازوں اور ماحول میں رکھا گیا۔ کچھ شرکاء کو غیر محسوس انفرا ساؤنڈ بھی سنائی گئی، جبکہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد زیادہ بے چین اور اداس محسوس کرتے ہیں، اور ان کے جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمون (کورٹیسول) کی سطح بھی بڑھ گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ لوگ جب کسی جگہ کو پہلے سے پراسرار سمجھتے ہیں تو وہ ان جسمانی اثرات کو “آسیب” یا غیر مرئی طاقت سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک قدرتی صوتی اثر بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ابتدائی تحقیق ہے اور اس پر مزید مطالعات کی ضرورت ہے، تاہم یہ نتائج عمارتوں کے ڈیزائن اور شور سے متعلق معیار بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔









