ایل این جی بحران، ملک میں گیس شارٹ فال 600 ایم ایم سی ایف سے تجاوز

0
21
ایل این جی بحران، ملک میں گیس شارٹ فال 600 ایم ایم سی ایف سے تجاوز

ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث ملک بھر میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، اور طلب و رسد میں فرق 600 ملین کیوبک فٹ سے بڑھ چکا ہے۔ اس کمی کے اثرات پاور اور کھاد کے شعبوں پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں گیس کی فراہمی کم ترین سطح تک محدود ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گھریلو صارفین بھی اس صورتحال سے متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں گیس کی دستیابی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سوئی ناردرن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یومیہ گیس سپلائی تقریباً 700 ملین کیوبک فٹ رہ گئی ہے، جبکہ ایران میں کشیدگی سے قبل یہ مقدار 1200 ملین کیوبک فٹ کے قریب تھی۔
حکام کے مطابق دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ادھر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری ہے۔ برینٹ خام تیل 111.2 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل تقریباً 99.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے ملکی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث ملک بھر میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، اور طلب و رسد میں فرق 600 ملین کیوبک فٹ سے بڑھ چکا ہے۔ اس کمی کے اثرات پاور اور کھاد کے شعبوں پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں گیس کی فراہمی کم ترین سطح تک محدود ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گھریلو صارفین بھی اس صورتحال سے متاثر ہیں اور کئی علاقوں میں گیس کی دستیابی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سوئی ناردرن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یومیہ گیس سپلائی تقریباً 700 ملین کیوبک فٹ رہ گئی ہے، جبکہ ایران میں کشیدگی سے قبل یہ مقدار 1200 ملین کیوبک فٹ کے قریب تھی۔
حکام کے مطابق دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ادھر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری ہے۔ برینٹ خام تیل 111.2 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل تقریباً 99.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے ملکی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔

Leave a reply