
امریکی پاپ اسٹار Taylor Swift نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر اپنی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے قانونی اقدام اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے اپنی آواز کے چند آڈیو نمونے اور ایک اسٹیج تصویر کو بطور ٹریڈ مارک رجسٹر کروانے کی درخواست جمع کرائی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ڈیپ فیکس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی مشہور شخصیت کی آواز اور شکل کو بغیر اجازت نقل کر کے جعلی مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں ان کی شناخت کو جعلی اشتہارات اور گمراہ کن مواد میں استعمال کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کاپی رائٹ قوانین صرف اصل ریکارڈنگ یا تخلیق تک محدود ہوتے ہیں، جبکہ اے آئی ایسی نئی آوازیں تخلیق کر سکتا ہے جو اصل سے مشابہ ہوں مگر براہ راست نقل نہ ہوں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹریڈ مارک ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ اقدام کامیاب رہتا ہے تو دیگر فنکار بھی اپنی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے اسی طرز کی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہیں ذاتی شناخت اور تخلیقی حقوق کا تحفظ ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔









