
شدید گرمی کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی لُو اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے بچنے کے لیے لوگ مختلف گھریلو اور روایتی ٹوٹکوں پر عمل کرتے ہیں۔ ان ہی میں ایک عام تصور یہ بھی ہے کہ جیب میں پیاز رکھنے سے گرمی اور لُو کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ خیال عرصہ دراز سے رائج ہے کہ پیاز گرم ہوا کو جذب کر لیتی ہے اور جسم کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اسی وجہ سے بعض افراد گھر سے نکلتے وقت پیاز ساتھ رکھنا فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیاز یا اس کا رس جسم پر لگانے سے فوری ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
تاہم طبی ماہرین اس بات کی تائید نہیں کرتے کہ جیب میں پیاز رکھنے سے لُو یا ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ ممکن ہے۔ ان کے مطابق پیاز میں موجود وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے لیے مفید ضرور ہیں، لیکن ان کا فائدہ صرف خوراک کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیاز کا استعمال متوازن غذا کا حصہ بن کر جسم کی مجموعی صحت اور ہائیڈریشن میں مدد دے سکتا ہے، مگر اسے گرمی سے بچاؤ کا براہ راست یا مؤثر طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گرمی اور لُو سے بچنے کے لیے ماہرین چند بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، جن میں زیادہ پانی پینا، نمکیات والے مشروبات کا استعمال، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننا، دھوپ میں سر اور چہرہ ڈھانپنا، اور دن کے انتہائی گرم اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ٹوٹکے ثقافتی طور پر اپنی جگہ رکھتے ہیں، تاہم صحت کے تحفظ کے لیے سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقوں کو اپنانا زیادہ محفوظ اور مؤثر ہے۔









