انسانی ارتقا کے بارے میں نئی تحقیق: سادہ درخت کے بجائے پیچیدہ جینیاتی نیٹ ورک کا انکشاف

0
16
انسانی ارتقا کے بارے میں نئی تحقیق: سادہ درخت کے بجائے پیچیدہ جینیاتی نیٹ ورک کا انکشاف

بین الاقوامی سطح پر شائع ہونے والی ایک تازہ سائنسی تحقیق نے انسانی ارتقا کے روایتی تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید انسان کسی ایک ہی آبائی گروہ سے نہیں بلکہ افریقا میں موجود مختلف انسانی آبادیوں کے طویل عرصے تک جاری رہنے والے باہمی تعلق اور جینیاتی اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے۔
یہ تحقیق 2023 میں معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی، جس میں انسانی ارتقا کو ایک سیدھے سادے خاندانی درخت کے بجائے ایک پیچیدہ جینیاتی نیٹ ورک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مطالعے میں جدید افریقی آبادیوں کے جینیاتی ڈیٹا کو قدیم ہومو سیپینز کے فوسل شواہد کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ ابتدائی انسان افریقا کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے تھے اور وہ طویل عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ جینیاتی تبادلہ کرتے رہے۔
اگرچہ سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ جدید انسانوں کی ابتدا افریقا ہی میں ہوئی، لیکن یہ سوال اب بھی تحقیق طلب ہے کہ یہ ابتدائی گروہ کس طرح ایک دوسرے سے الگ ہوئے، کہاں ہجرت کی اور کس طرح دوبارہ آپس میں ملے۔
تحقیق کی مرکزی محققہ کے مطابق اس موضوع پر غیر یقینی کی بڑی وجہ قدیم فوسلز اور ڈی این اے کے محدود دستیاب شواہد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق انسانی ارتقا کے بارے میں موجودہ فہم میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مطالعے کا ایک اہم حصہ جنوبی افریقا کے ایک مقامی قبیلے کے درجنوں جینومز کے تجزیے پر مشتمل تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ اس خطے کی آبادی میں جینیاتی تنوع غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
تحقیق کے ایک اور شریک مصنف نے کہا کہ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے پرانے نظریات کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ ارتقائی عمل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ رہا ہے جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔

Leave a reply