سائنس میں بڑی پیش رفت؟ نئی قوت دریافت ہونے کا امکان

0
23
سائنس میں بڑی پیش رفت؟ نئی قوت دریافت ہونے کا امکان

سائنس دانوں کے درمیان کائنات کے بارے میں ایک نئی بحث نے زور پکڑ لیا ہے، جس میں ایک ممکنہ “پانچویں قوت” کے وجود پر غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قوت ان چار بنیادی قوتوں کے علاوہ ہو سکتی ہے جنہیں اب تک طبیعیات میں تسلیم کیا جاتا ہے، اور یہ کائنات کی ساخت اور اس کے مسلسل پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نئی قوت کے شواہد سامنے آ گئے تو یہ موجودہ سائنسی نظریات میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ فی الحال کائنات کو سمجھنے کے لیے کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، مگر یہ سب مل کر بھی کائنات کی مکمل وضاحت فراہم نہیں کرتیں۔
تحقیقی اندازوں کے مطابق کائنات کا بڑا حصہ ایسے عناصر پر مشتمل ہے جنہیں “ڈارک میٹر” اور “ڈارک انرجی” کہا جاتا ہے، اور یہ اب تک براہِ راست نظر نہیں آئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ پانچویں قوت ان پراسرار اجزاء اور نظر آنے والے مادے کے درمیان تعلق کو واضح کر سکتی ہے۔
اس نظریے کو جانچنے کے لیے سائنس دان زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی نہایت درست پیمائش کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جانے والی یہ پیمائش اگر موجودہ حسابات سے مختلف نتائج دے، تو یہ کسی نئی قوت کی موجودگی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔
اگرچہ دنیا بھر میں جدید خلائی مشنز اربوں کہکشاؤں کا مطالعہ کر رہے ہیں، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی قوت کی تصدیق کے لیے قریبی اور کنٹرولڈ تجربات زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔
ماضی میں بھی کچھ تجربات ایسے نتائج دے چکے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈلز سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں تھے، جس سے نئی قوت کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر “پانچویں قوت” کا وجود ثابت ہو گیا تو یہ نہ صرف طبیعیات کے بنیادی اصولوں کو ازسرِ نو ترتیب دے گا بلکہ کائنات کے آغاز، اس کی ساخت اور اس کے مستقبل کو سمجھنے کے نئے در بھی کھول دے گا۔

Leave a reply