مکہ مکرمہ میں نایاب آٹھ رخی قرآنِ مجید کی نمائش، برصغیر کے فنِ خطاطی کی جھلک

مکہ مکرمہ کے معروف میوزیم آف قرآن کریم میں تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) کا ایک انتہائی نایاب اور منفرد قرآنِ مجید عوامی نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو اپنی غیر معمولی آٹھ رخی ساخت کے باعث خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تاریخی نسخہ برصغیر پاک و ہند میں تیار کیا گیا تھا، جہاں اس دور میں خطاطی، تزئین و آرائش اور جلد سازی کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اس مصحف کی تیاری میں انتہائی باریک بینی اور نفاست کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جو اس وقت کے فنی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس قرآن کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی ہندسی اور آٹھ زاویوں پر مبنی شکل ہے، جو روایتی مربع یا مستطیل نسخوں سے مختلف ہے۔ یہ ڈیزائن اسلامی جیومیٹرک آرٹ اور فنِ تعمیر کی خوبصورتی کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہ مصحف جسامت کے لحاظ سے بھی نہایت مختصر ہے اور اسے قدیم اصطلاح میں “حمائل” کہا جاتا تھا۔ ایسے نسخے عموماً سفر کے دوران آسانی سے ساتھ رکھنے یا حفاظت کے لیے بازو میں باندھنے کے مقصد سے تیار کیے جاتے تھے۔
یہ قیمتی مخطوطہ اس وقت شاہ فیصل سینٹر برائے تحقیق و اسلامی علوم کے نوادرات کے ذخیرے کا حصہ ہے، جہاں دنیا بھر سے اسلامی علمی ورثے کو محفوظ کیا جاتا ہے اور جدید سائنسی طریقوں سے اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
یہ نمائش مکہ مکرمہ کے حراء ثقافتی مرکز کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد زائرین کو اسلامی تاریخ، قرآن کی کتابت اور خطاطی کے ارتقاء سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روشناس کرانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے چھوٹے اور نفیس نسخوں میں اکثر “خطِ غبار” استعمال کیا جاتا تھا، جو اپنی غیر معمولی باریکی اور مہارت طلب تحریر کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہ نایاب مصحف نہ صرف اسلامی فنونِ لطیفہ کا شاہکار ہے بلکہ برصغیر اور حرمین شریفین کے درمیان تاریخی و روحانی تعلق کی بھی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔









