
بھارت کے معروف صنعتکار Mukesh Ambani رواں سال اپنی دولت میں نمایاں کمی کے باعث ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کھو بیٹھے ہیں، جبکہ یہ پوزیشن اب Gautam Adani کے پاس چلی گئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی درجہ بندی کے ادارے Bloomberg Billionaires Index کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، عالمی معاشی دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے امبانی کی دولت کو متاثر کیا ہے۔ رواں سال ان کی مجموعی دولت میں تقریباً 16.9 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ان کے اثاثوں کی مالیت کم ہو کر تقریباً 91 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب گوتم اڈانی کی کاروباری کارکردگی نسبتاً مستحکم رہی ہے، جس کی بدولت وہ دوبارہ ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ ان کا کاروباری نیٹ ورک بنیادی طور پر بندرگاہوں، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر مشتمل ہے، جو عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں نسبتاً کم متاثر ہوئے ہیں۔
ادھر Reliance Industries کو بھی مختلف شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ کمپنی کا بڑا حصہ پیٹروکیمیکل کاروبار سے وابستہ ہے، جہاں دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مزید برآں، ریٹیل سیکٹر میں بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دیکھی گئی، جہاں Isha Ambani کی زیر نگرانی ترقی کی شرح ہدف سے کم رہی۔
ریلائنس کی ٹیلی کام سروس Jio کی ممکنہ ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کو کمپنی کے لیے اہم موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 13 فیصد تک گر چکے ہیں۔ کمپنی کے آئندہ مالی نتائج سے اس کی کاروباری پوزیشن مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی حالات اور توانائی کے بحران نے نہ صرف بڑی معیشتوں بلکہ بڑے کاروباری افراد کی دولت کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے اثرات ایشیا کے امیر ترین افراد میں واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔









