پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے مذاکرات کی میزبانی پر آمادہ، امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز

0
13
پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے مذاکرات کی میزبانی پر آمادہ، امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام تک مختلف سطحوں پر ہونے والے مذاکرات کی سہولت کاری جاری رکھنے کو تیار ہے۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کر کے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
دوسری جانب قطر اور سعودی عرب نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ نازک صورتحال کو استحکام میں بدلنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں، تاکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران دونوں جنگی صورتحال سے نکلنا چاہتے ہیں، تاہم اصل چیلنج ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جس میں دونوں فریق اپنی سیاسی ساکھ بھی برقرار رکھ سکیں۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پروفیسر کے مطابق دونوں ممالک اس جنگ کے اثرات سے نکلنے کے خواہاں ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی فریق اپنی شکست تسلیم کیے بغیر بات چیت کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یہی صورتحال مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، اور اس سے نکلنے کے لیے ایک متوازن اور باعزت سفارتی راستہ تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Leave a reply