
آج کل فٹنس کا رجحان بڑھنے اور عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کے خدشات کے سبب پروٹین پاؤڈر کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اسے دودھ یا اسموتھی میں ملا کر طاقت اور توانائی کے لیے ایک آسان حل سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ سپلیمنٹس ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ماہر غذائیت کیتھی میک مینس کے مطابق، پروٹین پاؤڈر اکثر اضافی شکر، غیر ضروری کیلوریز اور بعض اوقات زہریلے کیمیکلز سے بھرے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ سپلیمنٹس عام ادویات کی طرح ایف ڈی اے کے سخت معیار کی نگرانی میں نہیں آتے، صارفین اکثر نہیں جان پاتے کہ وہ اصل میں کیا استعمال کر رہے ہیں۔
تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟
کلین لیبل پروجیکٹ کی ایک رپورٹ میں 134 مقبول پروٹین پاؤڈرز کی جانچ کی گئی۔ نتائج میں انکشاف ہوا کہ بہت سے پاؤڈرز میں سیسہ، آرسینک، کیڈمیم اور پارے (مرکری) جیسی بھاری دھاتیں موجود تھیں۔ کچھ مصنوعات میں بی پی اے کی مقدار مقررہ حد سے 25 گنا زیادہ تھی، جو کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زہریلے مادے یا تو تیاری کے دوران شامل ہوتے ہیں یا آلودہ زمین میں اگنے والے اجزاء کے ذریعے آ جاتے ہیں۔ بعض پاؤڈرز میں ذائقہ بہتر بنانے کے لیے اتنی شکر شامل ہوتی ہے کہ ایک گلاس دودھ کی کیلوریز 1200 تک پہنچ سکتی ہیں، جو وزن میں اضافے اور خون میں شوگر بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔
دودھ یا لیکٹوز سے الرجی والے افراد کو وے پروٹین سے پیٹ میں درد، گیس یا بدہضمی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
پروٹین کی ضرورت کیسے پوری کی جائے؟
کیتھی میک مینس کے مطابق، زیادہ تر صحت مند افراد کو پروٹین پاؤڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک عام عورت کو روزانہ تقریباً 46 گرام اور مرد کو 56 گرام پروٹین چاہیے، جو قدرتی غذا سے باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
قدرتی ذرائع جیسے انڈے، دہی، دالیں، مچھلی، چکن اور گری دار میوے پروٹین کی بہترین اور محفوظ مقدار فراہم کرتے ہیں۔ پروٹین سپلیمنٹس صرف مخصوص طبی حالات میں جیسے کینسر کے علاج، شدید کمزوری یا زخموں کے نہ بھرنے کی صورت میں ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کیے جانے چاہئیں۔
آخر میں
پروٹین پاؤڈر کا استعمال شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ سے مشورہ کریں۔ یاد رکھیں، ہماری غذائی ضروریات زیادہ تر خالص اور قدرتی غذا میں موجود ہیں، اس لیے پلیٹ پر توجہ دیں، پاؤڈر پر نہیں۔









