
امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی نے ایک جدید روبوٹ تیار کیا ہے جو دیکھنے میں مکڑی جیسا لگتا ہے لیکن حقیقت میں مکمل طور پر خودکار ہے۔ یہ روبوٹ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (AI) ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیزائن اور حرکت کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔
روبوٹ کی تحقیقاتی خصوصیات کو جرنل PNAS میں بیان کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق موجودہ دور میں زیادہ تر روبوٹ پہیوں یا انسانوں کی طرح چلنے والے ہیں، جبکہ یہ نیا روبوٹ غیر متوقع حالات میں بھی مؤثر طریقے سے حرکت کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ٹانگ کو نقصان پہنچے تو یہ اس کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ نہ صرف مختلف سطحوں پر بہتر کارکردگی دکھائے گا بلکہ حیوانات کے ارتقا کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ روبوٹ کی خودکار ٹانگیں، جو بیٹری، موٹر اور پراسیسنگ یونٹ سے لیس ہیں، ایک سادہ جوڑ پر مبنی نظام کے تحت کام کرتی ہیں۔
AI ماڈل کے ذریعے تیار کیے گئے ڈیزائن نے روبوٹ کے تمام نظاموں کی ہم آہنگی کو یقینی بنایا ہے تاکہ یہ چٹانی زمین، ریت اور دیگر ماحول میں آزادانہ طور پر حرکت کر سکے۔ تھری ڈی پرنٹڈ کاربن فریم اسے مضبوط اور لچکدار بناتا ہے، جبکہ خودکار الگورتھم اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ روبوٹ ہر صورتحال میں کس طرح چل سکتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ روبوٹ ارتقا کے راز، جیسے مکڑیوں کی آٹھ ٹانگیں، دیگر کیڑوں کی درجنوں ٹانگیں اور سانپوں کا ٹانگوں سے محروم ہونا، سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔









