
ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی رپورٹس میں ایک نئے خطرے کی نشاندہی کی جا رہی ہے جس کے مطابق ایک طاقتور اسپائی ویئر ٹول، جسے “ڈارک سورڈ” کہا جا رہا ہے، مبینہ طور پر آن لائن لیک ہو گیا ہے اور اب عام صارفین کی دسترس میں آ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹول پہلے محدود افراد کے لیے دستیاب تھا، تاہم اب اس کے کچھ حصے مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر شیئر کیے جانے کے بعد زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ رسائی ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اسے غلط استعمال کرے تو وہ موبائل ڈیوائسز سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جن میں پیغامات، رابطہ نمبرز اور دیگر ذاتی ڈیٹا شامل ہو سکتے ہیں۔
سیکیورٹی محققین کے مطابق اس طرح کے خطرات زیادہ تر ان ڈیوائسز کو متاثر کرتے ہیں جو جدید اپڈیٹس سے محروم ہوں یا پرانے آپریٹنگ سسٹم پر چل رہے ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانا سافٹ ویئر استعمال کرنے والے صارفین نسبتاً زیادہ خطرے میں رہ سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر مصدقہ فائل، لنک یا ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسے ذرائع سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
ادھر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ڈیوائسز کو تازہ ترین سافٹ ویئر ورژن پر اپڈیٹ رکھیں اور اضافی تحفظ کے لیے دستیاب سیکیورٹی فیچرز کو فعال کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس طرح کا ٹول وسیع پیمانے پر دستیاب ہو گیا ہے تو آنے والے دنوں میں سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے صارفین کو احتیاط برتنے اور اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔









