
اسلام آباد (ذرائع) — بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے آئندہ دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے اسلام آباد کو ممکنہ ملاقات کے مقام کے طور پر پیش کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں اعلیٰ سطح کے سیاسی اور مشاورتی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی لانا، جنگ کے خطرات کو روکنا اور دیرپا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
ادھر ایرانی حکام کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں اور امریکا سے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق بھی گفتگو کا مقصد موجودہ بحران کو کم کرنا اور دیگر تنازعات کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اسی دوران بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائیوں کو وقتی طور پر مؤخر کرنے کے فیصلے پر غور کیا گیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔
پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور نسبتاً غیر جانبدار ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو ایران اور دیگر خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اس ممکنہ سفارتی عمل میں اہم کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تمام معلومات مختلف بین الاقوامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں اور سرکاری سطح پر حتمی تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔









