ایران کے مختلف صوبوں میں حملوں سے جانی و مالی نقصان، امدادی سرگرمیاں جاری

ایران کے 24 صوبوں میں حالیہ فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 201 افراد کے جاں بحق اور 747 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنوبی شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی اطلاع ہے، جہاں متعدد افراد کے جاں بحق ہونیکا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی مہر کو بتایا کہ 220 سے زائد امدادی ٹیمیں مختلف مقامات پر سرگرم ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ضروری سامان کی فراہمی اور ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں دو ڈرون مار گرائے گئے۔ بعض سرکاری عمارتوں کے قریب میزائل گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ایرانی وزیر دفاع امیرناصر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
ایران کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کرمان شاہ، قم، اصفہان، تبریز، کرج، کنارک اور کامیاران سمیت مختلف علاقوں میں فوجی و بحری تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کارروائی امریکا کے ساتھ مل کر کی گئی اور اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق حملے فضائی اور بحری راستوں سے کیے گئے۔
حالیہ پیش رفت کے حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔









