ہمیں زیادہ لوگ چاہئیں—یا بہتر لوگ؟

پاکستان میں آبادی میں اضافے پر بات شروع ہوتے ہی ایک جملہ دلیل کے طور پر سامنے آ جاتا ہے کہ “جو بچہ دنیا میں آتا ہے، وہ اپنا رزق خود لیکر آتا ہے۔” یہ بات سننےمیں تو تسلی بخش لگتی ہی ہےمگر زمینی حقائق اس خیال سےمطابقت ہرگزنہیں رکھتے۔
اگر واقعی ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا تو ہمیں کم عمر بچوں کو سڑکوں پر مزدوری کرتے، بھیک مانگتے، تشدد سہتے اور تعلیم سے محروم نہ دیکھنا پڑتا۔ رزق صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں، بلکہ صحت، تعلیم، تحفظ، اخلاقی تربیت اور باعزت زندگی بھی اسی کا حصہ ہیں۔
آج پاکستان میں آبادی بڑھانا کئی جگہ ایک سنجیدہ ذمے داری کے بجائے معاشی حکمتِ عملی بن چکا ہے۔ زیادہ بچے، زیادہ ہاتھ—اور زیادہ کمائی۔ چاہے وہ کمائی چائلڈ لیبر سے ہو، بھیک کے ذریعے یا جرائم کی دنیا میں دھکیل کر۔ ایسے میں بچہ ایک انسان نہیں بلکہ ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بچہ پیدا کرنا درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا والدین اور ریاست اس بچے کو ایک ذمے دار، تعلیم یافتہ اور باکردار شہری بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اسے معیاری تعلیم، بہتر صحت اور محفوظ ماحول دے سکتے ہیں؟ یا وہ محض ایک ایسا فرد بنے گا جو خود بھی محرومی میں جئے گا اور معاشرے پر بوجھ بھی بنے گا؟
بدقسمتی سے ہم بحیثیت قوم انہی سوالات سے مسلسل نظریں چرا رہے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کو صرف تعداد سے نہیں، بلکہ معیار سے جانچا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں ایک فرد کی موت بھی قومی سطح پر موضوعِ بحث بن جاتی ہے۔ انسانی جان کی قدر اس لیے ہے کہ آبادی محدود، تعلیم یافتہ اور ریاستی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں روزانہ بے شمار اموات معمول بن چکی ہیں۔ یہاں انسانی جان کی ارزانی اس بات کا ثبوت ہے کہ آبادی بڑھ تو رہی ہے، مگر مقصد، مہارت اور شعور کے بغیر۔
دنیا کی کئی ریاستوں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا۔ چین کی ون چائلڈ پالیسی ہو یا بنگلا دیش کی فیملی پلاننگ مہمات، یا ایران کا مذہبی دائرے میں رہتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینا—یہ سب مثالیں بتاتی ہیں کہ آبادی پر قابو پانا نہ غیر فطری ہے اور نہ غیر مذہبی، بلکہ ایک دانشمندانہ قومی فیصلہ ہے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ صرف زیادہ آبادی نہیں، بلکہ غیر تربیت یافتہ اور غیر پیداواری آبادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ کمزور ہے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو اکثر منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل اچانک پیدا نہیں ہوتے، بلکہ ناقص تربیت، تعلیم کی کمی اور بے ہنگم آبادی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
آبادی کے دباؤ نے بے روزگاری، جرائم، ذہنی مسائل، انتہاپسندی اور سماجی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ محدود وسائل پر بڑھتا بوجھ عوام کو مایوسی اور غصے کی طرف دھکیل رہا ہے، مگر اس کے باوجود حکمران طبقہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے سے گریزاں ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر تعلیم یافتہ عوام ووٹ بینک، سستی لیبر اور طاقت کے مظاہروں کے لیے آسان ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یوں آبادی اور جہالت کا یہ امتزاج اقتدار کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ محض نصیحت اور آگاہی سے آگے بڑھا جائے۔ ریاست کو چاہیے کہ دو یا تین بچوں سے زائد خاندانوں کے لیے بعض سرکاری سہولیات کو مشروط کرے، خاندانی منصوبہ بندی کو سائنسی اور سماجی بنیادوں پر فروغ دے، خواتین کی تعلیم کو ترجیح بنائے اور بچوں کے حقوق پر سختی سے عملدرآمد کرائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ قومیں تعداد سے نہیں، بلکہ علم، کردار اور شعور سے بنتی ہیں۔ بے مقصد ہجوم کبھی ترقی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان نے آبادی کے اس خاموش مگر خطرناک بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے:
ہمیں زیادہ لوگ چاہئیں—یا بہتر لوگ؟









