بسنت کی تیاری: لاہور میں 34 کروڑ پتنگیں اور ڈوریں فروخت

0
81
بسنت کی تیاری: لاہور میں 34 کروڑ پتنگیں اور ڈوریں فروخت

لاہور میں بسنت کے تہوار کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، تاہم حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت کے موقع پر پتنگ اور گُڈے کے سائز کو محدود کر دیا گیا ہے۔ پتنگ کی زیادہ سے زیادہ لمبائی 30 انچ اور چوڑائی 34 انچ مقرر کی گئی ہے، جبکہ گُڈے کی لمبائی 34 انچ اور چوڑائی 40 انچ سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔
ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے تیار کی جائے گی اور اس میں نو سے زیادہ تاروں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ مانجھے میں صرف گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشہ استعمال کیا جا سکے گا، جبکہ نائلون یا پلاسٹک کی ڈور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مارکیٹ میں روایتی گُڈے، جن میں پونا تاوا، تاوا اور ڈیڑھ تاوا شامل ہیں، مختلف قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ڈور کا پنا 10 سے 12 ہزار روپے میں دستیاب ہے، جس میں تقریباً دو ہزار میٹر ڈور شامل ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک کروڑوں کی تعداد میں پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہو چکی ہیں۔
شہریوں کی حفاظت کے لیے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سیفٹی انٹینا نہ لگوانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اوردفعہ 188 کےتحت مقدمات درج کیےجارہے ہیں۔
صحت کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بسنت کے دوران 6 اور 7 فروری کو پنجاب کے تمام ٹیچنگ اسپتال کھلے رہیں گے، جہاں ایمرجنسی، آؤٹ ڈور اور انڈور سروسز دستیاب ہوں گی۔
وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ بلال یاسین کی زیر صدارت اجلاس میں تمام ترقیاتی منصوبہ جاتی سائٹس کو نو گو ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔ ان مقامات پر مکمل کورنگ، روشنیوں کی تنصیب اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی، جبکہ واسا کے ترقیاتی کام عارضی طور پر روک دیے جائیں گے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہر کو بسنت کے رنگوں سے سجا دیا ہے اور خطرناک چھتوں و عمارتوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ شہریوں کو گھروں اور تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو ذاتی طور پر وارننگ دی گئی ہے۔
ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی مانیٹرنگ جاری ہے اور ہر روف ٹاپ کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کوئیک ریسپانس ٹیمیں این او سی کی جانچ کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن مکمل کی جا رہی ہے اور ہزاروں سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں۔
عوامی سہولت کے لیے 6 سے 8 فروری تک بس، میٹروبس اور اورنج لائن میٹروٹرین پر مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو ذاتی گاڑیوں کے کم استعمال اور اجتماعی سفر کی تلقین کی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بسنت کی خوشیاں ضرور منائی جائیں، مگر مکمل احتیاط، قانون کی پاسداری اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ تاکہ یہ ثقافتی تہوار خوشگوار اور محفوظ ماحول میں منایا جا سکے۔

Leave a reply