
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی نئی دستاویزات، جنہیں عمومی طور پر ’ایپسٹین فائلز‘ کہا جا رہا ہے، میں عالمی سطح پر بااثر اور امیر شخصیات کے روابط، ملاقاتوں اور خط و کتابت سے متعلق متعدد متنازع پہلو سامنے آئے ہیں۔
یہ فائلز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے وابستہ نیٹ ورک اور اس کے مختلف افراد سے تعلقات پر مشتمل ہیں، جن میں سیاست، کاروبار اور سماجی حلقوں کی کئی معروف شخصیات کے نام شامل ہیں۔
ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی مختلف مقامات پر موجود ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ان فائلز میں ان کے خلاف کسی غیر قانونی عمل کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور یہ ریکارڈ انہیں ہر قسم کے الزام سے بری قرار دیتے ہیں۔
جمعے کے روز جاری ہونے والی ان تازہ دستاویزات میں پاکستان سے متعلق چند حوالہ جات بھی سامنے آئے ہیں، اگرچہ یہ حوالہ جات نوعیت کے اعتبار سے محدود اور عمومی نوعیت کے بتائے جا رہے ہیں، اور انہیں بعض دیگر عالمی شخصیات سے متعلق سنگین انکشافات کے مقابلے میں کم اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق جیفری ایپسٹین اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس سے منسلک ٹیموں کے درمیان ہونے والی ای میلز میں پاکستان اور نائجیریا میں پولیو کے خاتمے سے متعلق پروگراموں کا ذکر بارہا ملتا ہے۔ ان ای میلز میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نیکولک کا نام بھی شامل ہے۔
ایک ای میل میں ایپسٹین کو پاکستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملوں کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا اور اس سے ممکنہ حل پر رائے طلب کی گئی۔ بعض دیگر ای میلز میں ایپسٹین کی جانب سے پاکستانی شلوار قمیض میں دلچسپی اور پاکستان سے ملبوسات کی ترسیل کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔
اسی طرح 2010 میں ایپسٹین اور جے پی مورگن کے ایک اعلیٰ عہدیدار جیس اسٹیلی کے درمیان ہونے والی خط و کتابت میں ایپسٹین کے مختلف غیر ملکی شخصیات کے ساتھ نجی ملاقاتوں کے انتظام کا حوالہ دیا گیا ہے، جس فہرست میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ اس وقت وہ یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں وزیر خارجہ تھے۔
دستاویزات میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا ذکر بھی موجود ہے۔ ایک ای میل کے مطابق بل گیٹس پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی اس خبر پر ناخوش تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی عمران خان سے ٹیلیفونک گفتگو متوقع ہے، جس کا مقصد افغانستان کو پولیو مہم میں تعاون پر آمادہ کرنا تھا۔ بل گیٹس کو خدشہ تھا کہ ایسی خبریں پولیو پروگرام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
مزید برآں، ستمبر 2018 کی ایک ای میل میں گولڈمین سیکس سے وابستہ ایک فرد نے ایپسٹین کو لکھا کہ ان کے نزدیک عمران خان کی قیادت ایک سست رفتار حادثے کے مترادف ہے، چاہے اسے چین کی حمایت ہی کیوں نہ حاصل ہو۔









