ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکن یا مٹن؟ ماہرین کی اہم رہنمائی

0
73
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکن یا مٹن؟ ماہرین کی اہم رہنمائی

ذیابیطس ایک ایسی بیماری بن چکی ہے جو تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔ اگرچہ اس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے بلڈ شوگر لیول کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ شوگر کے مریضوں کے لیے خوراک کا درست انتخاب نہایت اہم ہے، کیونکہ معمولی سی غذائی بے احتیاطی بھی شوگر لیول میں اچانک اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جو دل، گردوں اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اکثر غیر سبزی خور ذیابیطس کے مریض اس بات پر الجھن میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کے لیے چکن بہتر ہے یا مٹن۔ اس حوالے سے ماہرین واضح کرتے ہیں کہ دونوں گوشت اپنی جگہ غذائیت رکھتے ہیں، مگر ان کا استعمال اعتدال کے ساتھ ضروری ہے۔
مٹن کو ریڈ میٹ میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے، تاہم اس میں سیر شدہ چکنائی زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریڈ میٹ کا زیادہ استعمال انسولین ریزسٹنس میں اضافہ اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے شوگر کے مریضوں کو مٹن کم مقدار اور وقفے وقفے سے استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں چکن کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ پروٹین سے بھرپور، چکنائی میں کم اور کم گلیسیمک انڈیکس کا حامل ہوتا ہے، جس کے باعث یہ بلڈ شوگر کو تیزی سے نہیں بڑھاتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں چکن کو روزمرہ غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ گوشت کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اس کا پکانے کا طریقہ بھی بے حد اہم ہے۔ تلی ہوئی یا زیادہ تیل، گھی اور مکھن میں تیار کی گئی غذائیں شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ اُبالا ہوا، گرل کیا ہوا یا ہلکے مصالحوں کے ساتھ پکایا گیا گوشت زیادہ صحت مند انتخاب سمجھا جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ہر مریض کا جسم اور شوگر لیول مختلف ہوتا ہے، اس لیے غذاؤں کے اثرات بھی فرداً فرداً بدل سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے خوراک میں توازن اور اعتدال کو بنیادی اصول بنایا جانا چاہیے۔
ڈاکٹرز اور نیوٹریشن ماہرین کا مشورہ ہے کہ اپنی غذا یا طرزِ زندگی میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے قبل معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

Leave a reply