
ماہرینِ اعصاب نے انکشاف کیا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں انسانی دماغ ایک ایسا طریقۂ کار اختیار کرتا ہے جو وقتی طور پر اس کی توجہ اور کارکردگی کو متاثر کر دیتا ہے۔
عام طور پر یہ بات سب جانتے ہیں کہ خراب نیند کے بعد ذہنی یکسوئی کم ہو جاتی ہے، فیصلے کرنے میں دقت ہوتی ہے اور ردِعمل سست پڑ جاتا ہے، مگر اب سائنسدانوں نے اس کے پیچھے موجود ایک حیران کن دماغی عمل کی نشاندہی کی ہے۔
امریکا کے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ہونے والی تحقیق کے دوران یہ جائزہ لیا گیا کہ نیند کی کمی کے بعد دماغ کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ دماغ میں موجود ایک شفاف سیال، جسے سیریبرواسپائنل فلوئیڈ کہا جاتا ہے، عام حالات میں نیند کے دوران دماغ میں جمع ہونے والے فاضل مادّوں کو خارج کرتا ہے۔ یہ عمل دماغی صحت کے لیے نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے۔
تاہم محققین نے دریافت کیا کہ جب انسان نیند سے محروم ہوتا ہے تو دماغ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اسی صفائی کے عمل کو بیداری کے دوران فعال کر دیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس دوران دماغ کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق جب سی ایس ایف بیداری کے وقت حرکت میں آتا ہے تو چند لمحوں کے لیے دماغ درست طور پر توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا، جس کے نتیجے میں ذہنی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
اس تحقیق کے لیے 26 صحت مند رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن کے تجربات دو مختلف مواقع پر کیے گئے۔ ایک بار انہیں نیند سے محروم رکھنے کے بعد ٹیسٹ کیا گیا جبکہ دوسری بار مکمل نیند کے بعد ان کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے واضح ہوا کہ نیند کی کمی کی صورت میں دماغ خود کو صاف رکھنے کے لیے بیداری کے دوران ہی یہ نظام چلا دیتا ہے، گویا دماغ اپنی حفاظت کی کوشش کر رہا ہو، مگر اس کی قیمت توجہ میں کمی کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نیند کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ مکمل آرام نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔









