5سالہ بچے کے سینے سے نایاب طبی کیس میں ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیا

0
122
5سالہ بچے کے سینے سے نایاب طبی کیس میں ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیا

رحیم یار خان میں ایک نادر طبی کیس سامنے آیا ہے جس میں 5 سالہ بچے کے اندر نامکمل بچے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
شیخ زید اسپتال کے ترجمان کے مطابق، تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی کی ٹیم نے کامیاب سرجری کے ذریعے بچے کے سینے سے نومولود کو نکالا۔ تاہم، نکالا گیا بچہ قبل از وقت ہونے کی وجہ سے زندہ نہ رہ سکا۔
ترجمان نے بتایا کہ سرجری کے بعد 5 سالہ بچے کی حالت تسلی بخش ہے اور اسے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر سلطان محمود اویسی کے مطابق، نکالا گیا ’فیٹس ان فیٹو‘ دل کی مرکزی شریان کے قریب موجود تھا، جبکہ زیادہ تر کیسز میں یہ ٹیومر پیٹ میں پایا جاتا ہے۔ اس نایاب کیس میں نومولود بچے کے کئی اعضا تشکیل پا چکے تھے، لیکن پانچ سال تک اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔
برطانوی خبر ایجنسی بی بی سی کے مطابق، ڈاکٹر سلطان نے بتایا کہ بچے کو 18 دن کی عمر سے سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن، کھانسی اور اکثر بخار کی شکایت رہی۔ متعدد ڈاکٹروں کے معائنے کے باوجود تشخیص ممکن نہیں ہوئی، لیکن سی ٹی اسکین کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ ’فیٹس ان فیٹو‘ ہے۔
نکالے گئے بچے کے کچھ اعضا تشکیل پا چکے تھے، جن میں ریڑھ کی ہڈی، بال، دانت اور دیگر اعضاء شامل تھے، مگر سر موجود نہیں تھا۔ نومولود کا وزن تقریباً ایک کلو تھا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسر ندیم اختر نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’فیٹس ان فیٹو‘ ایک نایاب حالت ہے جس میں ایک بچہ نما ٹیومر جسم کے اندر پلتا ہے۔ یہ اکثر پیٹ کے نچلے حصے میں پایا جاتا ہے اور زیادہ تر غیر خطرناک ہوتا ہے، یعنی یہ جسم میں پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ ٹیومر میں بھی تین تہیں پائی جاتی ہیں، جیسا کہ ایک عام فیٹس میں ہوتا ہے۔

Leave a reply