ایران میں بغاوت اور پاکستان کے لیے اس کے اثرات

ایران میں بغاوت اور پاکستان کے لیے اس کے اثرات

تحریر:عبداللہ

ایران میں بغاوت اور پاکستان کے لیے اس کے اثرات
ایران میں مہینوں سے جاری مظاہروں نے اب پوری سرزمین کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ احتجاج شروع تو مہنگائی کے خلاف ہوا تھا، مگر جلد ہی ایک بڑی سیاسی تحریک میں بدل گیا، جس کا مقصد حکومت کے نظام کو چیلنج کرنا ہے۔ اب ایران کے ۳۱ صوبوں میں ہر شہر و قصبے میں لوگ سڑکوں پر ہیں، اور سب کچھ سرکاری بیان کے مطابق بھی غیر معمولی حد تک شدت اختیار کر چکا ہے۔
بلوچستان کے سیستان علاقے میں گزشتہ روز جو مظاہرہ ہوا، اس نے ظاہر کیا کہ سرحدی صوبوں میں بھی احتجاج کی لہر پہنچ گئی ہے، اور لوگ بالکل سرحد کے پاس تک نکل آئے ہیں۔ حکومت نے اس کی شدت کم کرنے کے لیے انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر بند کر دی ہیں، مگر مظاہروں کی ویڈیوز اور خبریں بیرون ملک پہنچتی رہیں، جس سے عالمی میڈیا میں بھی ایران کی اندرونی صورتحال کی جھلک مل رہی ہے۔
یہ تحریک انفرادیت کی بنیاد پر چل رہی ہے، یعنی اس کے کوئی مرکزی رہنما یا معروف سیاسی پارٹی نہیں ہیں۔ یہ خصوصیت اسے تاریخی طور پر منفرد بناتی ہے کیونکہ ایران میں سیاسی اختلافات عام طور پر دبائے جاتے ہیں۔ اس بار عوام خود اپنی طاقت کے ذریعے حکومت کو جواب دے رہی ہے۔
مغربی ذرائع کی قیاس آرائی یہ ہے کہ شاہ ایران کے خاندان کے ایک فرد، رضا شاہ، ممکنہ طور پر نئی حکومت کے سربراہ بن سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ نظام میں کوئی دوسرا متبادل قیادت کے لیے نمایاں نہیں ہے۔ مگر عوامی جذبات اور سابقہ تجربات یہ دکھاتے ہیں کہ قیادت کی تبدیلی پیچیدہ اور غیر متوقع ہو سکتی ہے، اور اسرائیل نواز یا مغرب دوست حکومت کے قیام کے امکانات موجود ہیں، حالانکہ عوام میں امریکہ سے محبت اور اسرائیل سے سخت نفرت پائی جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال پریشانی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ماضی کے تجربات، جیسے افغان تنازع اور ایران میں اسلامی انقلاب، یہ واضح کرتے ہیں کہ پڑوسی ممالک میں طاقت کی تبدیلی کے اثرات ہم تک ضرور پہنچتے ہیں۔ 1980ء اور 1981ء میں بھی مشرقی پڑوسی ممالک میں سیاسی تبدیلیوں نے پاکستان کی داخلی اور خارجی صورتحال پر براہِ راست اثر ڈالا تھا۔
اسی طرح، پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال بھی کئی خطرات اور امکانات کے درمیان جھول رہی ہے۔ وزیر اعظم کو مہلت دی جانے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، مگر یہ واضح ہے کہ وقتی بونس یا مختصر اقدامات ملک کی بنیادی معاشی مشکلات حل نہیں کر سکتے۔ حکومت کی پالیسیوں میں کمی بیشی یا دیر سے فیصلے غربت، بے روزگاری اور اقتصادی خسارے میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو، ایران کی تحریک اور پاکستان کی داخلی سیاسی و اقتصادی صورتحال ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ پڑوسی ملک میں تبدیلی کے طوفان سے پاکستان کی سیاست، معیشت اور معاشرتی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ عوامی شعور اور ملکی قیادت کی حکمت عملی ہی اس صورتحال کے اثرات کو کم یا زیادہ کر سکتی ہے۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ خطے میں تبدیلی کا دور آن پہنچا ہے، اور نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے لیے بھی چیلنجز اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ موجودہ وقت میں مستقبل کی پیش گوئی مشکل ہے، مگر تاریخ اور موجودہ حالات کے تجزیے سے یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے مہینے اہم ہوں گے، اور فیصلہ کن تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

Leave a reply