ایران میں حکومت کا مستقبل خطرے میں؟ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ غور و فکر

ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں جاری احتجاجی صورتحال کے تناظر میں حکومت کی تبدیلی کے ممکنہ منظرناموں پر ابتدائی غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ بین الاقوامی واقعات، خصوصاً لاطینی امریکہ میں پیش آنے والی پیش رفت، نے واشنگٹن اور تل ابیب میں پالیسی سازوں کے اندازِ فکر کو متاثر کیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام کی اکثریت کا خیال تھا کہ ایران میں ہونے والے احتجاج اتنے منظم یا وسیع نہیں کہ وہ اقتدار کے ڈھانچے کو براہِ راست چیلنج کر سکیں، تاہم اب اس جائزے میں نرمی آتی دکھائی دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی دارالحکومت میں یہ امکان زیرِ بحث ہے کہ محدود اور مخصوص نوعیت کے اقدامات کے ذریعے ایران میں احتجاجی تحریک کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بغیر کسی بڑے فوجی آپریشن کے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی حلقوں میں بھی یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ موجودہ حالات ایران میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے پر ایرانی مظاہرین کی بالواسطہ مدد کے الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی ایران نے سختی سے مخالفت کی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض سابق اسرائیلی حکام کھل کر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ایران میں عوامی تحریک کی بین الاقوامی حمایت ہونی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل تک امریکہ اور اسرائیل کی توجہ زیادہ تر ایران کے جوہری پروگرام تک محدود تھی، تاہم حالیہ احتجاجی لہر نے پالیسی کے دیگر پہلوؤں پر بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، اور ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کسی واضح حکمتِ عملی کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم یہ تاثر اب مضبوط ہو رہا ہے کہ محدود نوعیت کی مداخلت کو ایک قابلِ عمل آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔









