سڈنی حملہ : بھارتی میڈیا کا جنون اور سچ کی فتح

سڈنی حملہ : بھارتی میڈیا کا جنون اور سچ کی فتح

تحریر:

سڈنی کے ساحل پر اتوار کا دن خون میں نہا گیا۔ خوشیوں اور مذہبی عقیدت کے لمحے، گولیوں کی آواز میں بدل دیے گئے۔ یہ حملہ صرف انسانوں پر نہیں تھا، یہ دنیا کے ضمیر پر حملہ تھا۔ یہ پیغام دینے کی کوشش تھی کہ نفرت کی کوئی سرحد نہیں، کوئی تہوار محفوظ نہیں۔ مگر قدرت نے اسی لمحے انسانیت کو ایک ایسا چہرہ دکھایا جس نے نفرت کے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔

شام سے ہجرت کرکے آسٹریلیا آنے والا ایک مسلمان نوجوان—احمد—اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس کے ہاتھوں سے بندوق چھینی گئی، مزید لاشیں گرنے سے بچ گئیں۔ آج دنیا اسے ہیرو کہہ رہی ہے، مگر یہ لفظ بھی اس کی جرات کے لیے ناکافی ہے۔ ایک مسلمان نے یہودیوں کی جان بچا کر اس جھوٹ کو دفن کردیا کہ مذہب انسانیت سے بڑا ہوتا ہے۔

مگر سچ کی اس فتح سے پہلے نفرت کے سوداگر حرکت میں آچکے تھے۔

حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا نے بغیر کسی تحقیق، بغیر کسی ثبوت، پاکستان کا نام اچھالنا شروع کردیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ شاید اب کی بار بھی شور سچ پر غالب آجائے گا۔ تصویریں، قیاس آرائیاں اور زہر آلود تبصرے—سب کچھ تیار تھا۔ مقصد واضح تھا: دہشت گردی کو مذہب اور قومیت کے ساتھ جوڑنا، اور انگلی ہمیشہ کی طرح پاکستان کی طرف اٹھانا۔

سوشل میڈیا پر اس مہم کو مزید ایندھن ملا۔ نفرت انگیز پیغامات، اجتماعی سزا کے مطالبات، ویزوں کی بندش، تارکینِ وطن کی چھان بین—گویا ایک واقعہ پوری قوم کے خلاف فردِ جرم بن گیا ہو۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کو میڈیا کی طاقت نہیں، اس کی بے رحمیت نظر آئی۔

اس کے برعکس آسٹریلیا کی ریاستی سنجیدگی قابلِ غور رہی۔ نہ جذباتی بیانات، نہ فوری نتائج۔ صرف تفتیش، حقائق اور ذمہ داری۔ یہی وہ رویہ تھا جس نے وقت کے ساتھ شور کو کم اور سچ کو بلند کردیا۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جب الزام لگانے والوں کا بیانیہ خود انہی کے قدموں میں بکھر گیا۔

تحقیقات نے واضح کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے نہیں تھا۔ سفری ریکارڈ، امیگریشن تفصیلات اور بین الاقوامی رابطوں نے بتادیا کہ معاملہ اس سادہ نفرت انگیز کہانی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جو بھارت نے گھڑی تھی۔ کچھ دیر کے لیے خود بھارتی میڈیا میں بھی سچ کی ایک جھلک دکھائی دی—مگر وہ جھلک اتنی ہی تیزی سے غائب کردی گئی جتنی تیزی سے سامنے آئی تھی۔

یہاں اصل سوال حملہ آوروں کی قومیت نہیں، بلکہ اس سوچ کی ہے جو ہر واقعے کو مسلمانوں کے خلاف فردِ جرم بنانے پر تلی رہتی ہے۔ شدت پسندی نہ مذہب دیکھتی ہے نہ پاسپورٹ۔ یہ ایک عالمی عفریت ہے جو کمزور ریاستوں، ٹوٹے ہوئے معاشروں اور نفرت کے بیانیوں سے طاقت پاتی ہے۔

داعش یا اس جیسی تنظیمیں کسی ایک ملک کی پیداوار نہیں۔ یہ دنیا کی اجتماعی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔ انہیں شکست دینے کے لیے الزام نہیں، تعاون چاہیے۔ تعصب نہیں، شعور چاہیے۔

سڈنی کے ساحل پر بہنے والا خون یہ یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ جھوٹے بیانیوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ بھی کہ جب نفرت چیختی ہے، تب بھی انسانیت خاموش نہیں رہتی—وہ احمد جیسے لوگوں کی صورت کھڑی ہوجاتی ہے۔

بھارت کا جنون اس دن اس لیے خاک ہوا کہ سچ زیادہ دیر دبایا نہیں جاسکتا۔ اور سچ یہ ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، مگر انسانیت کا ایک ہی چہرہ ہوتا ہے۔

Leave a reply