غزہ منصوبہ، امریکا کا دباؤ اور فیلڈ مارشل کے سامنے کڑا امتحان

0
111
غزہ منصوبہ، امریکا کا دباؤ اور فیلڈ مارشل کے سامنے کڑا امتحان

پاکستان کے اعلیٰ عسکری عہدیدار جنرل عاصم منیر حالیہ دنوں بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں خاص توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی جانب سے غزہ سے متعلق ایک مجوزہ منصوبے میں پاکستان سے کسی ممکنہ کردار کی توقعات پر غور کیا جا رہا ہے، جسے ماہرین پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی توازن کے لیے ایک اہم مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنرل عاصم منیر آئندہ ہفتوں میں امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں ان کی امریکی قیادت سے ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں جانب اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ملاقات مختصر عرصے میں ہونے والی ملاقاتوں کا تسلسل ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی قیادت غزہ کے لیے ایک عبوری اسٹیبلائزیشن فورس کے قیام پر غور کر رہی ہے، جس میں چند مسلم ممالک کی افواج شامل ہو سکتی ہیں۔ اس فورس کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقے میں امن و امان، تعمیر نو اور انتظامی استحکام بتایا جا رہا ہے۔ تاہم بعض ممالک اس منصوبے سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس سے غزہ میں موجود مسلح گروہوں کے مستقبل اور مقامی ردعمل سے متعلق خدشات جڑے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں فلسطین کے حق میں عوامی جذبات مضبوط ہیں، وہاں ایسی کسی بھی شمولیت کا فیصلہ سیاسی طور پر حساس ہو سکتا ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے، جہاں اس معاملے پر عوامی اور مذہبی حلقوں کا ردعمل حکومت کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں نمایاں رہی ہیں، اور دفاعی و معاشی تعاون اسلام آباد کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کسی بین الاقوامی منصوبے سے مکمل لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو اس کے سفارتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی فوج کو خطے میں طویل عسکری تجربہ حاصل ہے اور ملک کو اس وقت بھی مختلف سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں، خصوصاً مغربی سرحد سے منسلک مسائل۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسی پس منظر میں پاکستانی عسکری قیادت پر عالمی سطح پر کردار ادا کرنے سے متعلق دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اندرونِ ملک صورتحال کے حوالے سے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پاکستانی فوج کسی ایسے مشن کا حصہ بنتی ہے جسے عوام اسرائیل یا امریکا کے مفادات سے جوڑیں، تو اس کے نتیجے میں احتجاج، سیاسی تناؤ اور سلامتی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فی الحال حکومتِ پاکستان، عسکری قیادت اور خارجہ پالیسی کے ذمہ دار اداروں نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اور واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان عالمی دباؤ، سفارتی مفادات اور داخلی استحکام کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔

Leave a reply