جاپان کے شمالی ساحل پر طاقتور زلزلہ، سونامی کی لہریں اور آفٹر شاکس کا خدشہ

جاپان کے شمالی ساحلی علاقوں میں پیر کی رات آنے والے طاقتور زلزلے نے وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیلا دیا۔ 7.5 شدت کے اس جھٹکے—جسے امریکی جیولوجیکل سروے نے 7.6 قرار دیا—کے بعد منگل کو حکام امدادی سرگرمیوں اور نقصان کے جائزے میں مصروف رہے، جبکہ عوام کو ممکنہ آفٹر شاکس سے خبردار کیا جاتا رہا۔
فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ایجنسی کے مطابق، کم از کم 33 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک شخص کی حالت نازک ہے۔ مقامی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں گرنے والی اشیا کی وجہ سے زخمی ہوئے۔
وزیر اعظم سانائی تاکائچی نے متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کریں۔
زلزلہ رات تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر آوموری کے ساحل سے دور بحرالکاہل میں آیا، جس کے بعد کچھ مقامات پر 70 سینٹی میٹر تک بلند سونامی کی لہریں دیکھی گئیں۔ چند ساحلی فارموں، خصوصاً اوئسٹر فارموں کو نقصان پہنچا۔
جاپان موسمیاتی ایجنسی نے صبح ساڑھے چھ بجے سونامی وارننگ ختم کر دی، تاہم خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں مزید جھٹکوں کا امکان موجود ہے۔ ادارے نے شمال مشرقی ساحل کے 182 علاقوں کے رہائشیوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔
زلزلے کے باعث تقریباً 800 گھروں کی بجلی معطل ہوئی اور شِنکانسن سمیت کئی ٹرین سروسز روک دی گئیں، جن کی بحالی بعد ازاں شروع کر دی گئی۔ ہاچینوہے ایئر بیس میں تقریباً 480 افراد نے پناہ لی جبکہ ہوکائیڈو کے نیو چیٹوز ایئر پورٹ پر چھت کا حصہ گرنے کے بعد 200 مسافر رات بھر پھنسے رہے۔
جوہری توانائی کے نگران ادارے کے مطابق، آوموری کے روکا شو پلانٹ میں استعمال شدہ ایندھن کے ایک ٹینک سے تقریباً 450 لیٹر پانی باہر نکلا، تاہم کسی قسم کے خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ دیگر تنصیبات بھی محفوظ قرار دی گئیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے مرکزی زلزلے کے بعد 6.6 اور 5.1 شدت کے آفٹر شاکس ریکارڈ کیے۔ حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کٹس تیار رکھیں اور آئندہ ہفتوں کے دوران ممکنہ جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے محتاط رہیں۔









