
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکار وکرم بھٹ کو ان کی اہلیہ شویتامبری بھٹ کے ساتھ ایک بڑے مالیاتی دھوکا دہی کے کیس میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دونوں کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد اُدے پور پولیس کی خصوصی ٹیم نے عدالت سے 9 دسمبر تک کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرلیا۔
رپورٹس کے مطابق وکرم بھٹ، ان کی اہلیہ اور چھ دیگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے اُدے پور کے ڈاکٹر انڈیرا گروپ آف کمپنیز کے بانی اجے مردیا سے تقریباً 30 کروڑ روپے ہتھیا لیے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ مرحومہ اہلیہ کی زندگی پر مبنی بائیوپک اور دیگر فلموں کی تیاری کے نام پر منافع بخش منصوبوں کا لالچ دے کر رقم لی گئی، لیکن بیشتر منصوبے مکمل نہ ہوسکے۔
مقدمے کے مطابق مئی 2024 میں بھٹ خاندان اور اجے مردیا کے درمیان 4 فلمیں بنانے کا معاہدہ ہوا تھا جس کی مالیت 47 کروڑ روپے تھی۔ ابتدائی دو منصوبوں کے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم باقی فلمیں زیرِ تکمیل رہیں۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر جعلی وینڈرز اور فرضی بلوں کے ذریعے رقم نکلوائی گئی، جس کے باعث مدعی کو بھاری نقصان ہوا۔
عدالتی پیشی کے دوران ملزمان کے وکلا نے مؤقف اپنایا کہ گرفتاری قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کی گئی اور پولیس نے دباؤ ڈال کر ایک خالی دستاویز پر دستخط بھی کروائے۔ وکلا نے یہ بھی کہا کہ عدم تعاون کی صورت میں راجستھان میں تشدد کی دھمکیاں دی گئیں۔
عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کا ٹرانزٹ ریمانڈ 9 دسمبر تک برقرار رکھنے کا حکم دیا۔









