پاکستان میں ایچ آئی وی کیسز میں تیزی سے اضافہ، عالمی اداروں کا فوری اقدامات پر زور

0
134
پاکستان میں ایچ آئی وی کیسز میں تیزی سے اضافہ، عالمی اداروں کا فوری اقدامات پر زور

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یو این اے ایڈز نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے علاقائی دفتر کے مطابق 2010 کے بعد سے ملک میں نئے ایچ آئی وی انفیکشنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010 میں نئے کیسز تقریباً 16 ہزار تھے، جبکہ 2024 تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 48 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو تین گنا سے زائد اضافہ ہے۔

تازہ تخمینوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت لگ بھگ 3.5 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد—تقریباً 80 فیصد—اپنی بیماری سے لاعلم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اب صرف ہائی رسک گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، بچوں اور خاندانوں تک بھی پھیل رہا ہے۔ غیر معیاری خون کی اسکریننگ، آلودہ انجیکشنز کا مشترکہ استعمال، محدود صحت سہولیات اور آگاہی کی کمی اس بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے اہم اسباب قرار دیے جا رہے ہیں۔

عالمی اداروں نے سفارش کی ہے کہ:

ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور اسکریننگ پروگراموں کو مزید پھیلایا جائے

علاج اور ادویات کی سہولت ہر سطح پر دستیاب بنائی جائے

آگاہی مہمات کو تیز اور مؤثر بنایا جائے

ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر موجودہ صورتِ حال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

Leave a reply