“صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد 27ویں آئینی ترمیم نافذالعمل”

0
120
“صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد 27ویں آئینی ترمیم نافذالعمل”

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ ترمیم آئینِ پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن گئی ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کیا گیا تھا اور صدارتی توثیق کے بعد اب نافذالعمل ہو گیا ہے۔

ترمیم کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو مزید واضح بنانا، عدلیہ و انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور بعض آئینی شقوں کو موجودہ حالات کے مطابق بنانا ہے۔

اہم نکات

وفاق و صوبوں کے اختیارات: ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی و انتظامی اختیارات کی نئی وضاحت کی گئی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم میں شفافیت آئے۔

عدلیہ سے متعلق اصلاحات: ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جو آئینی تنازعات اور وفاق-صوبہ تنازعات کے فیصلے کرے گی۔ اس عدالت میں ملک کے مختلف حصوں سے جج تعینات کیے جائیں گے۔

عسکری ڈھانچے میں تبدیلی: آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے مسلح افواج کی مشترکہ قیادت کو نئے انداز میں منظم کیا گیا ہے۔ “چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی” کے بجائے “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے۔

صدرِ مملکت کے اختیارات: آرٹیکل 248 میں ترمیم کے ذریعے صدر کو قانونی تحفظات فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ان کے سرکاری اقدامات کو عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے۔

صوبائی کابینہ کی تشکیل: صوبوں میں کابینہ کے اراکین کی کم از کم تعداد اور خواتین کی نمائندگی کے لیے نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔

حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد ریاستی اداروں کے درمیان توازن پیدا کرنا اور آئینی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
دوسری جانب، حزبِ اختلاف اور بعض آئینی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ترمیم سے عدلیہ کی خودمختاری اور صوبائی خوداختیاری متاثر ہو سکتی ہے۔

ترمیم کے نفاذ کے بعد، حکومت نے اس کے عملی اطلاق کے لیے قواعد و ضوابط تیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

Leave a reply