مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نئے تصادم کے امکانات بڑھ گئے

0
127
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نئے تصادم کے امکانات بڑھ گئے

نیویارک – مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک اور بڑے تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جسے ماہرین محض “وقت کی بات” قرار دے رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش برقرار ہے، کیونکہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کا ایسا ذخیرہ موجود ہے جس سے گیارہ ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل-ایران جنگ کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات پر زیادہ نقصان نہیں ہوا، اور اب اسرائیل اور امریکا اس امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں کہ جلد ہی نئی لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا افزودہ یورینیم ملبے کے نیچے محفوظ ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے میزائلوں کی تیاری کی رفتار میں اضافہ کر دیا ہے اور اس کے منصوبے کے مطابق ایک وقت میں 2,000 میزائل داغے جا سکتے ہیں تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو ناکارہ بنایا جا سکے۔

عالمی ماہر علی وائز کے مطابق ایران مستقبل کی تیاریوں میں مصروف ہے، جبکہ اسرائیل پچھلی جنگ کے نامکمل نتائج کی وجہ سے دوبارہ حملے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل رک چکا ہے، اور 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ایران پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایران نے اپنے نئے افزودگی مرکز کا بین الاقوامی معائنہ کرانے سے بھی انکار کر دیا ہے، جس سے خلیجی ممالک میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ایک اور اسرائیلی حملہ ممکن ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اگر واقعی تعاون چاہتا ہے تو اسے خطے میں اپنی مداخلت ختم کرنی ہوگی، کیونکہ جو ملک اسرائیل کی حمایت کرتا ہے وہ ایران کا دشمن ہے۔

اسرائیلی حکام کا مقصد صرف ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا نہیں بلکہ ایرانی حکومت کی طاقت کو کمزور کرنا بھی ہے۔ اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو یہ پچھلی لڑائی کے مقابلے میں زیادہ شدید اور طویل ہوسکتی ہے۔

جون 2025 کی جنگ میں ایران نے اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 1,100 ڈرون حملے کیے، جن میں 32 میزائل کامیاب رہے، جس سے 32 افراد ہلاک اور 3,000 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ایران میں بھی ایک ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، اور جنگ کے اثرات خلیج، عراق، لبنان اور شام تک پھیل سکتے ہیں۔

Leave a reply