27ویں آئینی ترمیم: پیپلز پارٹی کا صدر کے لیے تاحیات استثنیٰ اور نیب کے خاتمے کا مطالبہ

0
125
27ویں آئینی ترمیم: پیپلز پارٹی کا صدر کے لیے تاحیات استثنیٰ اور نیب کے خاتمے کا مطالبہ

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق حالیہ مذاکرات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے دو اہم تجاویز پیش کی ہیں — صدرِ مملکت کے لیے تاحیات استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے خاتمے کا مطالبہ۔

ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کی شق 248 کے تحت صدر اور گورنر کو ان کے عہدے کے دوران فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے، تاہم پارٹی چاہتی ہے کہ یہ استثنیٰ عہدے کی مدت کے بعد بھی برقرار رہے۔ اس صورت میں صدر کے خلاف کوئی نئی یا پرانی فوجداری کارروائی ممکن نہیں ہوگی۔

پیپلز پارٹی نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ نیب کو ختم کر کے ایک خودمختار اور شفاف احتساب کمیشن قائم کیا جائے، جیسا کہ 2006 کے میثاقِ جمہوریت میں طے پایا تھا۔

پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کے مطابق، پیپلز پارٹی نے صرف صدر نہیں بلکہ گورنر، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزیروں کے لیے بھی وہ آئینی تحفظات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو ماضی میں آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحفظات سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے فیصلوں کے باعث متاثر ہوئے تھے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں وہ نکات شامل کر لیے گئے ہیں جن پر حکومتی جماعتوں کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ نیب کے خاتمے جیسے نکات ابھی زیرِ غور ہیں۔ ان کے مطابق، ن لیگ بھی اصولی طور پر نیب کے خاتمے کے حق میں ہے، کیونکہ یہ میثاقِ جمہوریت میں دونوں جماعتوں کا مشترکہ وعدہ تھا۔

ترمیم کا حتمی مسودہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

Leave a reply